Apnajpj-Home

Full Version: ہلیری کو کامیابی مبارک … مگر
You're currently viewing a stripped down version of our content. View the full version with proper formatting.
ہلیری کو کامیابی مبارک … مگر

ہلیری کلنٹن کا طیارہ ابھی فضا میں ہی تھا کہ ان کا دورہ کامیاب ہو گیا۔ ایک برس سے جن سینکڑوں دہشت گردوں اور شرپسندوں کا راستہ پاکستان کے اداروں نے روک رکھا تھا ان کے لئے فصیل وطن کے دروازے کھول دیئے گئے۔ حکومتی ایوان سے رات گئے وزارت خارجہ کو حکم جاری کیا گیا کہ واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے کے انچارج امریکی اہلکار حسین حقانی کو اختیار دے دیا جائے کہ ایک برس کا ڈپلومیٹک ویزا جاری کر سکیں۔ ان سے یہ اختیار گزشتہ برس کے آخر میں واپس لیا گیا تھا اور پاکستانی اداروں کے پاس اختیار واپس لینے کی ٹھوس وجوہات موجود تھیں، جو اب وقت گزرنے کے ساتھ مستحکم ہوئی ہیں، کمزور نہیں۔
غالباً یہ اگست کا مہینہ تھا جب پاکستانی اداروں نے گزشتہ برس امریکیوں کے لئے بلا ویزا و انٹری پاکستان میں گھسنے کی سہولت ختم کی۔ یہ انہی دنوں کا قصہ ہے جب امریکی اسلام آباد کی سڑکوں پر مسلح گھومنے لگے۔ انہوں نے قانون اور پاکستان کے وقار کو کھلونا بنانا چاہا تو پاکستانی ادارے حرکت میں آئے۔ امریکیوں کی نقل و حرکت کی تحقیقات ہوئیں۔ بہت سے حساس مقامات سے مسلح امریکی پکڑے گئے، جن میں کہوٹہ کے ممنوعہ علاقے سے پکڑے جانے والے وہ امریکی بھی شامل ہیں جو طالبان کے روپ میں تھے اور پشتو بول رہے تھے۔ صرف اسلام آباد نہیں۔ پشاور، لاہور اور خصوصاً ملتان اور جنوبی پنجاب کی جانب مشکوک امریکیوں کی آمدورفت نے اداروں کو مجبور کیا کہ وہ چیک کریں کہ اتنی بڑی تعداد میں یہ گدھ کہاں سے آن ٹپکے۔ ان میں سے بعض کو پکڑا گیا اور ڈی پورٹ کرتے ہوئے ان کے لئے پرویزی دور میں کھلنے والا دروازہ بند کر دیا گیا۔ خطرے کی گھنٹی اس وقت بجی جب یہ ڈیپورٹ ہونے والے پھر سے آگئے اور اب ان کی جیب میں پاکستان کا ویزا تھا جو انہیں حسین حقانی نے عطا کیا تھا۔ اس پر ان سے جب پوچھا گیا تو خاصے سیخ پا ہوئے اور جب کچھ امریکیوں کے ویزے پر قدغن لگائی گئی تو موصوف ان کا مقدمہ لڑنے پاکستان پہنچے، مگر ناکام رہے۔ ان سے اختیار لے لیا گیا۔ طے پایا کہ جناب حقانی کا دفتر صرف 3 ماہ کا ویزا جاری کرے گا، اس کے بعد پاکستانی ادارے تحقیق و تفتیش کے بعد ویزا دیں گے۔ منہ اٹھا کر ہر جگہ گھس جانے کے عادی امریکیوں کے لئے یہ ایک ناپسندیدہ صورت حال تھی، جس پر ان کا ہنگامہ مچانا قدرتی تھا۔ سو انہوں نے مچایا۔ مگر فیصلہ کرنے والوں کو پہلے سے اندازہ تھا، لہٰذا ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
دفتر خارجہ کی راہداریوں میں یہ قصے عام کہے جاتے ہیں کہ پھر کس طرح یہ امریکی دیگر ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے ویزے حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے، جس پر 23 فروری 2010ء پوری دنیا کے پاکستانی سفارت خانوں کو حکم جاری کر دیا گیا کہ وہ اپنے میزبان ملک کے سوا کسی دوسرے ملک کے شہری کو پاکستان کا ویزا جاری نہیں کریں گے اور دوسری طرف وزارت داخلہ کو حکم جاری کر دیا گیا کہ امریکی اور مغربی شہریوں کے ویزے میں توسیع پاکستانی اداروں کی منظوری کے بغیر نہیں کی جائے گی۔ بہت سوں کا ناطقہ بند ہوا۔ بڑے بڑے ایوانوں کے مکینوں کو یہ فیصلے ناگوار گزرے مگر ملکی دفاع کی خاطر یہ کڑوا گھونٹ بہر حال بھرنا ہی تھا، جس کو امریکیوں نے ویزا پالیسی کا تنازع قرار دیتے ہوئے 7 پاکستانی سفارت کاروں کو ویزے دینے سے انکار کر دیا۔ پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ بلیک میلنگ شروع ہوئی کہ پہلے ہمارے تین سو افراد کو ویزے دیں، پھر آپ کے7 سفارت کاروں کو ویزے ملیں گے۔ دفتر خارجہ کے لوگ بتاتے ہیں کہ گزشتہ برس ویزا لازم ہونے پر امریکیوں نے6 سو سفارتی ویزے طلب کئے۔ ان میں سے 3 سو افراد کے کاغذات مکمل تھے، انہیں ویزے دے دیئے گئے۔ بقیہ 3 سو جن میں 150سے زائد امریکی فوج سے تعلق رکھتے ہیں اور باقیوں کا معاملہ بھی مشکوک ہے۔ ان میں کئی بلیک واٹر کے کارندے ہیں اور کئی دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ارکان، حد تو یہ کہ ان کی درخواستیں تک مکمل نہیں۔ پاکستان کا سوال صرف یہ تھا کہ ویزا دینے سے ہمیں انکار نہیں مگر دستاویزات تو مکمل کریں۔ یہ بتائیں تو سہی کہ یہ حضرات کہاں کے سفارت کار ہیں اور پاکستان میں ان کی ضرورت کہاں اور کیوں ہے؟ مگر امریکیوں کا اصرار ہے کہ ہم کیوں بتائیں۔ ان سب کو نا مکمل دستاویزات پر سفارتی ویزے دیئے جائیں جبکہ پاکستان کے بارے میں ان کا رویہ اس قدر بغض پر مبنی ہے کہ وہ اعلیٰ افسران جو اکثر آنے جانے پر مجبور ہیں ان کے بارے میں بھی ایسی ایسی معلومات کا سوال اٹھایا جاتا ہے جو ملکی رازوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایک برس سے پاکستانی ادارے کوشش میں تھے کہ امریکیوں کو سمجھایا جائے کہ دوستی اور بد معاشی میں فرق ہے۔ دوستی ہے تو پھر جو سہولت ہم سے مانگتے ہیں وہ ہمیں بھی دیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ہم سے تو پردے کی باتیں بھی پوچھو اور اپنے تلنگوں کے لئے نامکمل کاغذات پر ویزوں کا مطالبہ کرو۔
امریکیوں کا اصرار ہے کہ ان کے سفارت کاروں کو تنگ کیا جا رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ سفارت کار اور دہشت گرد میں فرق تو کوئی ہوگا؟ جعلی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں پر مسلح گھومنا، حساس مقامات پر گھسنے کی کوشش کرنا، یہ کہاں کی سفارت کاری ہے اور کیا دسمبر 2009ء میں سرگودھا سے جانے والے5 امریکی بھی سفارت کار تھے۔ حقیقت کیا ہے اس کا اظہار جرس ساچل کی رپورٹ میں بخوبی ہوتا ہے، جس میں وہ لکھتی ہے کہ ’’پاکستان میں ہونے والا ہر امریکی آپریشن بلیک واٹر کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے، جس کا نام پہلے زی ورلڈ وائڈ رکھا گیا، مگر ان دونوں ناموں کے پاکستان میں بدنام ہو جانے کے بعد اب یہی دہشت گرد ادارہ پاکستان میں نئے نام ’’ٹوٹل انٹیلی جنس سلونس‘‘ (TIS) کے تحت کام کر رہا ہے‘‘۔ ساچل کے مطابق جب اس نے بلیک واٹر کے ایک ذمہ دار سے سوال کیا کہ بلیک واٹر پاکستان میں عام لوگوں کا قتل تو نہیں کرتی ہو گی؟ تو اس نے کہا یہ بات پوری طرح سے درست نہیں‘‘۔ یعنی یہ کام کیا جاتا ہے اور کروایا جاتا ہے۔ بہت سامنے کی بات ہے کہ جنوبی پنجاب میں پہلے امریکیوں کی آمد و رفت بڑھی، پھر دہشت گردی کا شور مچا۔کچھ گدیوں پر نوٹوں کی برسات ہوئی اور پھر آپریشن آپریشن کی آوازیں آنے لگیں۔ کون جانے ملک میں فرقہ وارانہ جنگ کے خواہش مندوں میں سے کون کون ان کے پے رول پر ہے اور کون جانے کہ فرقہ وارانہ نوعیت کے مقامات پر حملے کرنے والوں اور اس پر نفرت کا پرچار کرنے والوں کو ایک ہی اکاؤنٹ سے ادائیگیاں ہوتی ہوں۔
افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف جہاں ملکی ادارے ان بدمعاشوں کی راہ روکنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف اعلیٰ سطح پر کچھ لوگ اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ملک دشمنوں کی مدد کرنے پر بھی بضد ہیں۔ ابھی کل ہی کا قصہ ہے کہ درجن سے زائد امریکیوں سمیت بھارتی اور برطانوی شہریوں کی بڑی تعداد جن کو مشکوک کردار کے سبب ان کے اپنے ممالک میں قائم سفارت خانوں کے ذریعے ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا تھا، انہیں ابوظہبی کے پاکستانی سفارت خانے سے ویزے جاری کئے گئے۔ باوجود اس کے کہ ابوظہبی کا سفارت خانہ اس کا اختیار نہیں رکھتا تھا۔ معاملے کی کرید کریں تو پس منظر میں ملک کے سب سے بڑے ایوان کا نام آتا ہے۔ باخبر لوگ تو پریشان ہیں کہ سندھ میں پوسٹنگ ٹرانسفر کے بعد اب سفارتی امور تک میں اس شخص کی مداخلت کیا رنگ لائے گی جو خود کو بڑے ایوانوں کے مکینوں میں سے ایک کا بھائی بتاتا ہے، مگر ہے اس خاندان کے بزنس منیجر کا بیٹا اور ’’صاحب‘‘ کا لنگوٹیا۔
لوگوں کو اصرار تھا کہ ایوانوں کو مفت میں بدنام کیا جا رہا ہے، ممکن ہے سفارتخانہ اور سابق ناظم نے بالا بالا ہی بالائی کھانے کے شوق میں یہ حرکت کی ہو۔ مگر ہلیری کے استقبال میں کیا گیا فیصلہ بتاتا ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں، بلکہ ایک حکمت عملی کے تحت فیصلے ہو رہے ہیں اور ان اقدامات کی نفی کر رہے ہیں جو ملکی سلامتی کے ادارے کر رہے ہیں۔ ہلیری کو صرف یہی تحفہ نہیں دیا گیا بلکہ افغان ٹریڈ کے سلسلے میں بھی موصوفہ کی خواہش کے عین مطابق پاکستانی اداروں کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کو نوازا گیا ہے۔
ہلیری کو دورہ پاکستان کے آغاز میں ہی مل جانے والی یہ دو بڑی کامیابیاں مبارک۔ مگر ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اعلیٰ ترین ایوانوں سے بلند اور کون سا مقام ہے جس کے حصول کی خاطر یہ کاسہ لیسی کی جا رہی ہے؟، یہ ہڈیوں میں سرایت کر جانے والی صدیوں کی غلامی کا نتیجہ ہے یا کچھ اور…؟
سیف اللہ خالد

بہت زبردست تحریر ہے جاوید جی، پڑھ کر معلومات میں قدرے اضافہ ہوا ، ہمارے ایوانوں میں بیٹھی ہوئی کالی بھیڑیں ہی پاکستان کی جڑیں کاٹ رہی ہیں، امریکہ کو دوستی اور بدمعاشی کا فرق کیسے سکھایا جائے جبکہ ہمارے ناا ہل، کرپٹ اور بے غیرت حکمران امریکہ کی غلامی میں پاکستان کی خود مختاری ، عزت ، خود داری، وقار اور پاکستان کی پاکستانیت سب کچھ بیچ کر فارغ ہو چکے ہیں ، دیکھا جائے تو فی زمانہ تمام اسلا می دنیا کے حکمران امریکہ نے خریدے ہوۓ ہیں. منہ اٹھا کر ہر جگہہ گھسنے کے عادی امریکن گدھوں کے پاکستان میں داخلے کے لئے سخت سے سخت ویزے کی پابندی ہونی چاہے اور ان خبیثوں کو کسی صورت ڈھیل نہیں دینی چاہیے،

پاکستان کے پاس قدرتی وسائل اورقدرت کی طرف سے عطا کئے گئے خزانوں کی بھر مار ہے جن سے اگر مثبت طریقے سے فائدہ اٹھایا جائے تو ہم امیر، اور خود کفیل ملکوں کی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں اور پاکستان میں ایک بھی غریب نہ رہے اگر ہم اپنے ملک کے ساتھ سچے ہوں اور ملک کا فائدہ سوچیں اور ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینا سیکھ لیں لیکن مسلہ یہ ہے کے ہم اپنے آپ کے ساتھ سچے نہیں تو ملک کے ساتھ کیا خاک سچے ہونگے , بہت شکریہ جاوید جی اس بہترین آرٹیکل کو ہمارے ساتھ شیئر کرنے کا، جاری رکھیۓ

Reference URL's
  • Apnajpj-Home: http://apnajpjmedia.com/index.php
  • :